ابنا: خبروں کے مطابق دارالحکومت تونس کي شاہراہ بورقيبہ پر بڑي تعداد ميں لوگوں نے اجتماع کرکے تشدد آميزاقدامات کي مذمت کي –مظاہرے کے منتظمين کا کہنا ہے کہ يہ مظاہرہ غير جماعتي تھا اور اس مظاہرے ميں شرکت کي شرط يہ تھي کہ کوئي بھي شخص يا گروہ اپني جماعت يا پارٹي کے حق ميں نعرے نہيں لگائےگا - البتہ مظاہرين نے مستعفي ہوجانے والي حکومت اس کے وزير داخلہ اور حکمراں جماعت النہضہ پارٹي کے خلاف نعرے لگائے -
عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ اس موقع پر سيکورٹي فورس کي بھاري نفري سڑکوں پر تعينات ديکھي گئي-
مظاہرين مطالبہ کررہے تھے کہ حکومت مخالف رہنما شکري بعليد کے قتل کي تحقيقات کي جائے اور قاتلوں کو بے نقاب کيا جائے -
شکري بلعيد کو گذشتہ مہينے کے اوائل ميں اس وقت قتل کرديا گيا تھا جب وہ اپنے گھر سے نکل کر کہيں جارہے تھے - شکري بلعيد کے قتل کے بعد ملک ميں سياسي بحران پيدا ہوگيا تھا جو وزير اعظم حمادي جبالي کي حکومت کے استعفے پر منتج ہوا.
.......
/169